“شام” جماعت سوم کے لیے ایک خوبصورت نظم ہے جس کے شاعر شفیع الدین نیر ہیں۔ اس نظم میں شام کے وقت فطرت اور انسانی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کو خوشگوار انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے شام کے اثرات جیسے اندھیرا چھا جانا، پرندے اور مویشی اپنے گھروں کی طرف لوٹنا، آسمان پر ستاروں کا جواہر کی مانند چمکنا، مسافر کا سرا میں آرام کرنا اور بازار کا بند ہونا پیش کیے ہیں۔ نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ شام سکون، خاموشی اور فطرت کی خوبصورتی لے کر آتی ہے اور انسان کو آرام و تفکر کی طرف مائل کرتی ہے۔ اس سبق میں بچوں کو سوالات، مشقیں اور کھیل کے ذریعے شام کے مناظر اور نظم کے مفاہیم کو سمجھنے کی تربیت دی گئی ہے تاکہ وہ نہ صرف نظم پڑھ سکیں بلکہ اس کے معنی اور فطرت کی خوبصورتی کو بھی محسوس کر سکیں۔